Suno.....Aai
Chaand si ladki
Abhi
Tum keh rahi thi naa
Tumhe Mujh se
Mohabbat ho nahi sakti
Chalo
Mana K ye Sach hai
Mager Aai
Chand si ladki...!
Mujhe itna bata do
tum
K jab mosam badalte
hain
Guloon me Rang bharte hain
To
phir Q muztarib ho ker
Akele
Pun se Ghabraa ker
Hawa ko Raaz deti
ho
Mujhe Aawaaaz deti ho
Suno....AAi
Chand si ladki
Tumhare
Saamne koi mera jab naam leta hai
To
phir Q chonk jati ho??
Chalo
Maana Tumhe Mujhse Mohabbat ho nahi
sakti
Magar itna samajh lo Tum
Jahan
Chahat nahi hoti
Wahan
Nafrat k hone ka koi imkaaan nahi hota
Mera
Daawaaa hai chahat
me,
Jahan Nafrat Nahi hoti,
Wahan Aksar ye
dekha hai
Ager
kuch waqt kat jai,
Same ki Dhooool Chat Jai,
To
Wehshat Bhaag
Jati Hai
Mohabbat....Jaag Jati hai
Wednesday, June 2, 2010
assalikum
پاکستان ٹیلی کمنیوکشین کمپنی نے لاھور ھاییکورٹ کے حکم پر فیس بک اور یو ٹیوب پر پابندی لگا کر بھت احسن قدم اٹھایا جس کی جس قدر تعاریف کی جاے کم ھے۔ حضرت محمد ﷺ کی شان میں جو بھی گخستاخی کرے اس کا سدباب ھر مسلمان پر فرض ھے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اس پر اپنا احتجاج قانون کے مطابق اور پر امن طریقے سے کیا جاے اور ان لوگوں پر واضع کردیا جاے کہ ایک ادنی سے ادنی مسلمان حضرت محمد ﷺ اور اللہ کے کسی بھی رسول کی شان میں گخستاخی کو برداشت نھیں کرے گا۔
یہ بھی بڑی بدقسمتی ھے کہ 57 مسلم ممالک اقوام متحدہ کے ممبرز ھیں اس کے باوجود اپنے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر قلمی دھشت گردوں کے روز بروز بڑھتے ھوے اور انکی شان میں خستاخی پر خاموش تماشای بنے ھیں۔ اخر یہ مسلم ممالک مل کر اقوام متحدہ کو مجبور کیوں کرتے کہ حضرت محمد صلی اللہ علہہ وسلم اور کسی بھی رسول کی شان میں گخستاخی ایک دھشت گردی ھے اور اسکے سدباب کے لیے قانون سازی کی جاے بین الاقوامی سطح پر اور سزاوں کا تعین کیا جاے ۔ اس طرح کی بے بھیودہ اور مذموم حرکت کو کرنے والے اور اسکا تحفط اور سپورٹ کرنے والے اداروں کا محاسبہ بھی کیا جاے۔ اگر ایسا نھیں ھوسکتا تو ایسی ممبر شپ سے مستفع ھونا ھی بھتر ھوگا جو مسلم ممالک کی عوام کے احساسات اور جذبات مجروح کرنے والوں کا محاسبہ بھی نہ کرسکے
او ای سی مسلم ممالک کو یکجا کرکے اس گمبھیر معاملے کو اقوام عالم کے سامنے رکھے اور اس قلمی دھشت گردی پر فوری فور قابو پانے پر اپنا کردار ادا کرے
یہ بھی بڑی بدقسمتی ھے کہ 57 مسلم ممالک اقوام متحدہ کے ممبرز ھیں اس کے باوجود اپنے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کی ناموس پر قلمی دھشت گردوں کے روز بروز بڑھتے ھوے اور انکی شان میں خستاخی پر خاموش تماشای بنے ھیں۔ اخر یہ مسلم ممالک مل کر اقوام متحدہ کو مجبور کیوں کرتے کہ حضرت محمد صلی اللہ علہہ وسلم اور کسی بھی رسول کی شان میں گخستاخی ایک دھشت گردی ھے اور اسکے سدباب کے لیے قانون سازی کی جاے بین الاقوامی سطح پر اور سزاوں کا تعین کیا جاے ۔ اس طرح کی بے بھیودہ اور مذموم حرکت کو کرنے والے اور اسکا تحفط اور سپورٹ کرنے والے اداروں کا محاسبہ بھی کیا جاے۔ اگر ایسا نھیں ھوسکتا تو ایسی ممبر شپ سے مستفع ھونا ھی بھتر ھوگا جو مسلم ممالک کی عوام کے احساسات اور جذبات مجروح کرنے والوں کا محاسبہ بھی نہ کرسکے
او ای سی مسلم ممالک کو یکجا کرکے اس گمبھیر معاملے کو اقوام عالم کے سامنے رکھے اور اس قلمی دھشت گردی پر فوری فور قابو پانے پر اپنا کردار ادا کرے
Subscribe to:
Posts (Atom)




